Thursday, October 1, 2026
Monday, September 14, 2026
- Who is Sikander e A'zam? Hazrat Allaamah Kaukab Noorani Okarvi سکندر اعظم کون ہے؟
![]() |
| #HazratUmar |
... فاروق اعظم!...
خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ
ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ
Sunday, September 13, 2026
Remembering the Honourable Mother of Allaamah Kaukab Noorani Okarvi
Maan Jee Qiblah Ki Yaad Mayn Urdu- Book by Hazrat Allaamah Kaukab Noorani Okarvi
Maan Jee Qiblah Ki Yaad Mayn Urdu
Tuesday, September 8, 2026
Friday, August 14, 2026
Thursday, June 25, 2026
Sunday, June 14, 2026
Thursday, May 14, 2026
Monday, May 11, 2026
Friday, April 24, 2026
Friday, April 3, 2026
Monday, March 23, 2026
Message from Madinah Shareef on Pakistan Resolution Day 23rd March -Hazrat Allaamah Kaukab Noorani Okarvi
بسم اللہ والحمد للہ والصلوة والسلام علی رسول اللہ۔ اس وقت دیار
حبیب کریم مدینہ منورہ میں ہوں اور استغاثہ پیش کر رہا ہوں کہ ھم معافی چاهتے ہیں، وہ وطن عزیز مملکت خداداد پاکستان جو دین اسلام کے عملی نفاذ کے لیے بیش بہا قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا لیکن 74 برس گزر جانے کے باوجود سیاست کاران اور مسلط ھونے والے حکمران طبقے نے اس حوالے سے کوئی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ملک میں کھلم کھلا خلاف اسلام کارروائیاں جاری رہی ہیں اور ھم اجتماعی توبہ بھی نہیں کر رہے۔ موجودہ اپوزیشن یعنی سابق حکمرانوں کا بھی دین و ملت کے حوالے سے کردار منفی ہی رہا ہے ۔ موجود مسلط وزیر اعظم نے 126 دن دھرنا دے کر جو نامناسب روایت قائم کی اور جس طرح اقتدار میں آئے وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور اقتدار پا کر اپنے ہی اقوال اور وعدوں کے برملا خلاف جو کچھ کیا وہ ھماری تاریخ کا سیاہ باب ھے۔ بد زبانی اور بد کلامی کی بری روایت قائم کی۔ عریانی، فحاشی، رشوت ، سود، شراب خوری، اخلاق باختگی اور جھوٹ و منافقت کی بہتات، ہوش ربا مہنگائی وغیرہ، ایک لمبی فہرست ہے بے نظمی اور بد انتظامی کی۔ اس وزیر اعظم کے وابستگان کی سیاہ کاریوں اور آلودگیوں کا سلسلہ اس سے بھی بدتر ہے۔ ذمہ دار وزیر ٹی وی پر خاتون سے بلا جھجک کہتا ہے کہ "وہ جتنا چاہے کم لباس پہنے ،میں اس کو سپورٹ کروں گا " ۔ اقتدار حاصل کرنے اور اس کو بچانے کے لیے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے جو حربے اپنائے گئے،قوم نے بھلائے نہیں۔ کبھی انھیں یورپ کی خوش نودی عزیز تھی اور اب پرواہ نہیں۔ ناموس رسالت کے پہرہ داروں کے لیے جو گھناؤنا گھٹیا طرز عمل رکھا گیا وہ بھی اس حکومت کی بد ترین سیاہ کاری کے طور پر یاد رہے گا۔ اس وزیر اعظم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے لیے "ذلیل ہوئے " کے لفظ کہے، اصحاب النبی کے لیے نامناسب لفظ کہے اور توبہ نہیں کی، اب انھیں پھر اپنا اقتدار بچانا ہے تو دین کی اصطلاحات اور احکام کا من مانا استعمال کر کے سنگین جرم کر رہے ہیں۔ کیا وزیراعظم کو "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر " کی تفصیل اور اس کی ترویج کی پوری معلومات ہیں؟ کیا وہ ریاست مدینہ کے دعوے اور وعدے کے خلاف اپنے مزاج اور عمل سے آگاہ ہیں؟ امر بالمعروف کے عنوان کا ایسا استعمال باعث تشویش ھے۔ انھیں یاد رہے کہ دنیا اور یہ اقتدار عارضی ہے، بہتر ہوگا کہ وہ دین اور ملک کو کھلونا نہ سمجھیں کیونکہ دین میں مداخلت اور ملک سے کھلواڑ کا وبال اور انجام بہت شدید اور سنگین ہوتا ہے۔۔ اللہ کریم جل شانہ اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے میرے وطن کی حفاظت فرمائے اور ھر طرح کے خطرات اور دشمنوں سے بچائے۔ آمین


















.jpeg)