Okarvi

Okarvi

Welkom, Willkomme, Jedip kelgeneerle utkïp turum, Salaam, Marhaabaa, Ahlan wa sahlan, Mire se vini, Werte marda, Afayaivos, Xosh gälmìsän, Om swastyastu ,Khush Aamdeed, Ongi etorri, Shagatom, Dobro dosli, Ale, Foon ying, Nayak, Kasanangan do kinorikatan, Van harte welkom, Willkommen,Swaagatam, Benvenuto, Irashaimasu, Khosh keldiniz, Selamat dating, Bismil-Laa, Hos Geldiniz..

WELCOME......


Bismil Laahir Rahmaa Nir Raheem

As Salaamu Alaiekum Wa Rahmatul Laahi Wa Barakaatuhu!

Marhabaa and Welcome to the site of our Most Honorable, Respected Beloved Scholar Khateeb e Millat Aashiq-e-Rasool, His Eminence Shaiekh-e-Tareeqat

Hazrat Allamah Kaukab Noorani Okarvi
[Mudda Zilluhul Aali].

Okarvi

Okarvi

Islaam Zinda Hota Hai Har Karbalaa kay Baad- Muhamad Ali Johar- Quote


After Karbalaa English Speech Pretoria South Africa -Allamah Kaukab Noorani Okarvi





Allamah Iqbal About Hazrat Imaam Husaien [Radiyal Laahu Anhu]


Allamah Iqbal (Famous Poet)
"Imaam Husaien [Radiyal Laahu Anhu] uprooted despotism forever, till the day of Resurrection. He watered the dry gardens of freedom with a surging wave of his blood, and indeed he awakened the sleeping Muslim nation. If Imaam Husaien [Radiyal Laahu Anhu] had aimed at acquiring the worldly empire, he would not have traveled the way he did. Husaien weltered in blood and dust for the sake of truth. Verily, therefore he becomes the foundation of Muslim creed. ‘Laa Ilahaa Illal laah’, meaning there is no deity but Allaah (God).”

Aamir Liaquat Husaien TV Program- Allamah Kaukab Noorani -Muharram transmission

Hazrat Imaam Husaien [ Radiyal Laahu Anhu's] Ultimate Sacrifice- Article- Allamah Kaukab Noorani Okarvi


بسم الله الرحمن الرحیم ۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم
 سیدنا امام حسین نے شریعت کے اقتدار کے لیے بے مثال قربانی دی

۔ علامہ اوکاڑوی
 بےدار اور منور اذھان ھی امام پاک کی عظمت کااندازە کر سکتے ھیں ۔ شب عاشور میں خطاب
 مولانا اوکاڑوی اکادمی ( العالمی ) کے سربراە خطیب ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا ہے کہ آزادیٴ اظہار اسی کو شایاں ھے جو پابندِ افکار ھو کیوں کہ دین و مذھب کی کمال پابندی ھی خواھشات میں تہذیب اور کردار میں ترتیب اور عظمت لاتی ہے۔ روشن فکر سے وابستہ لوگ ھی منزل پاتے ھیں اور اندھیرے دُور کرتے ھیں اور نواسہٴ رسول سیدنا امام حسین کا تو ھر حوالہ ھی نور اور خیر ھے انھوں نے پاکیزگی اور عمدگی کے اعلٰی مراتب رکھتے ھوۓ ھرگز اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ شریعت و سنت کے اقتدار کے لیے بے مثال قربانی دے کر اذہان و عقول کو ایسا مسخر کیااور وە فکری انقلاب بپا کیا کہ ان کا نام اور کام سبھی کے لیے زندگی اور روشنی ھوگیا،امام پاک نے واضح کردیا کہ حق ھی طاقت ہےاور حق پر ثابت قدم رھتے ھوۓ سب کچھ قربان کردینا وە فتح ھے جو صرف ان کا حصہ ھے جن کے قلب و لسان میں کمال ھم آھنگی ھوتی ہے اور یہی ان کی استقامت کو غیر متزلزل بناتی ہے۔ وە جامع مسجد گُل زارِ حبیب ، گلستانِ اوکاڑوی میں شبِ عاشور کے مرکزی اجتماع سے خطاب کر رھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ عزمِ راسخ رکھنے والےمفاھمت و مصالحت کےنہیں جراٴت و ھمت کے خوگر ھوتے ھیں اور دین کے معاملے میں لچک نہیں پختگی ضروری ھوتی ھے کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ نظام میں دڑار سے نظمِِ ملت اور امن قائم نہیں رە سکتا، بلا خوفِ تردید یہ کہتا ھوں کہ بیدار اور منور اذھان ھی امام عالی مقام کی عظمت و مرتبت کا اندازە کر سکتے ھیں ، سطحی عقل و ذھن رکھنے والوں سے یہ ممکن نہیں ، امام پاک بلا شبہ دین وملت کے محسن ھیں ۔ علامہ اوکاڑوی نے کہا کہ سیدنا امام حسین مظہرِ جمال و کمالِ مصطفٰی ھیں اس لیے ان سے کسی منفی یا کمزور کردار کا کوئی تصور کیا ھی نہیں جاسکتااور واقعہٴ کربلا تو الله تعالٰی کی طرف سے امام پاک کا امتحان تھااور اس کی خبر رسولِ پاک صلی الله علیہ وسلم نے اس واقعے سے 55 برس پہلے ھی دے دی تھی اور اپنے نواسے کے لیے صبر و استقامت کی دعا بھی فرمائی تھی۔ امام پاک نہ صرف اس امتحان میں کام یاب ھوےبلکہ امت کے لیے خود کو اور اپنے بے داغ بلند مثالی کردار کو یادگار بناگئےاور معنیٴ ذبحِِ عظیم ثابت ھوے ۔ انھوں نے کہا آج دنیا پرست حبِ جاە و مال کے لیے اپنے بےڈھنگے اطوار اور داغ دار کردارکو حسینیت کہہ کر امام عالی مقام کی اھانت کے مرتکب ھوتے ھیں ۔ علامہ اوکاڑوی نے تفصیل سے واقعہ کربلا بیان کرتے ھوے کہا کہ یزیدی سفاکیت کے لرزا دینے اور دل ھلا دینے والے مصائب میں امام پاک اور ان کے اعوان و انصار کا صبر و رضا اور حق پر ثبات ان کے لیے الله تعالٰی کی مدد تھا۔ علامہ کوکب نورانی نے کہا کہ امام پاک سے محبت و عقیدت کا تقاضا ھے کہ ھم صرف شھادتِ حسین ھی کو یاد نہ رکھیں بلکہ اس عظیم مقصد کو بھی یاد رکھیں جس کے لیے آلِ رسول نے اتنی بڑی قربانی دی اور دنیا پرستی اور آخرت فراموشی سے بچیں ۔ اجتماع میں درود و سلام کے بعد خصوصی دعا کی گئی ۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اجتماع میں شرکت کی ۔ علامہ اوکاڑوی نے کہا کہ یوم عاشورا بہت محترم دن ہےاھل ایمان اس مقدس دن کو عبادت اور نیکی میں بسر کریں اور اس دن میں کسی غیر شرعی قول و عمل کا مظاھرە نہ کریں ۔